what's my fault 54

ہمارا کیا قصور ہے۔۔۔؟

تحریر ۔ رضوان رفیق باجواہ

کالم کانام ۔۔ روشن سائے ۔۔

امریکہ کے خلاف متفقہ قراداد کو ہماری اسمبلی کے پچپن ارکان نے منظور کر کے جو عزت بخشی ہے اس کے لیے عوام ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں پاکستان کے اندرونی اور بیرونی حالات کے بارے ہر مکاتب فکر سے وابستہ افراداپنے تجزیے بیان کر رہے ہیں لیکن ملک جن مشکلات کا شکار ہے اس سے نکلنے کا حل کوئی نہیں بتا رہااور اب امریکی صدر نے جو تازہ دھمکی دی ہے اس کے بعد بھی ہم نے ہوش نہ پکڑا تو پھر ساری قوم یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ ہمارا کیا قصور ہے ہمیں ٹی وی چینلز پر روزانہ پاکستان پر مریکی پالیسی کے تجزیے پیش کرنے کی بجائے قومی بیانیہ جاری کرنا چاہیے اور یہ کام کسی فرد واحد کا نہیں اس پر وقت کے حکمرانوں کونئی امریکی پالیسی پر ملکی سا لمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسی بیان جاری کرنا چاہیے اگر حکومت کی طرف سے ایسا نہ کیا گیا اور وقت گزارنے کی پالیسی جاری رکھی گئی تو امریکی بیانیے پر عمل شروع ہونے کا وقت بھی آ سکتا ہے ۔حکومت اور اپوزیشن کو ملکی مفاد کے پیش نظر پوری طاقت کے ساتھ امریکہ کو جواب دینا ہو گا ۔ورنہ تو ہمارے لیڈر میٹنگ میں جو پالیسی اپناتے ہیں وہ ہمیشہ خفیہ رہتی ہے بلکہ عوام کی نظروں سے اوجھل رکھی جاتی ہے ملک کی تقدیر پر کیے جانے والے فیصلوں کا علم عام آدمی کو اس وقت ہوتا ہے جب ملکی سا لمیت کے ان اجلاسوں کی کہانی پر کوئی ایک شریک محفل اپنی لکھی ہوئی تحریر یا کتاب کو مارکیٹ میں اچھی فروخت کے لیے قسط وار اظہار خیال شروع کر دیتا ہے ۔ اپ کو علم ہونا چاہیے آج کا دور کمرشل ازم پر چلتا ہے جس طرح فلم کی تشہیر کی جاتی ہے اسی طرز پر کتاب کی فروخت کے لیے کمرشل تشہیر کی جاتی ہے تاکہ اس کی فروخت میں اضافہ ہو سکے ۔ہمیں پاکستان کی سا لمیت سے زیادہ اپنی لکھی ہوئی کتاب کی بڑے پیمانے پر فروخت سے دلچسپی ہوتی ہے ۔اس سے بھی زیادہ خطرناک عمل یہ ہوتا ہے کہ اکثر نامور لوگ صرف کتاب کے لیے مواد دیتے ہیں ان کی نوک پلک کوئی اور سنوارتا ہے اور پھر کتاب کو چھاپنے والا اپنے منافع کے لیے اس کی کمرشل بنیادوں پر مارکیٹ میں تشہیر کرتا ہے ۔ایسی ہی کئی کتابیں جو حقائق کو کمرشل بنا کر فروخت کی جاتی ہیں وہ چند دنوں بعد فٹ پاتھ پر آجاتی ہیں جہاں سے میرے جیسے کئی افراد اس کو خریدتے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم ہر اس کتاب کے فٹ پاتھ پر آجانے کا انتظار کرتے ہیں جسے خریدنے کی اجازت ہماری معصوم جیب نہیں دیتی۔سوچ تو یہ تھی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشہور زمانہ الفاظ میرا کیا قصور ہے اور مجھے کیوں نکالا ؟ پر لکھا جائے لیکن امریکی صدر کے پالیسی بیان کی وجہ سے ان کا ذکر خیر کرنا بھی ضروری ہو گیا تھا ۔دونوں موضوعات پر لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج ااگر نواز شریف یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا کیا قصور ہے تو دوسری طرف قوم کا بھی اپنے حکمرانوں اور باقی ماندہ لیڈروں سے یہ ہی سوال ہے کہ ہمارا کیا قصور ہے ۔وہ اپنی حاکمیت کے کھو جانے پر قوم کے سامنے سوال رکھ رہے ہیں کہ میرا کیا قصور ہے اور قوم اپنے بنیادی حقوق نہ ملنے پر حکمرانوں سے پوچھ رہی ہے کہ ہمارا کیا قصور ہے بس فرق صرف میرا اور ہمارا کا ہے ۔نواز شریف صاحب نے یہ سوال آٹھا کر وہ کام کر دیا ہے جو پاکستان کی تاریخ کے ستر سالوں میں کوئی حکمران نہ کر سکا ۔میری ذاتی راے میں نواز شریف صاحب تو اپنا قصور پوچھ رہے تھے اور ان کو احساس بھی نا ہوا کہ قوم ان کے اس سوال کے باعث جاگ گئی اور عام آدمی سوال کرتا نظر آ رہا ہے کہ ہماراکیا قصور ہے ۔دوسری طرف یہ فقرہ اتنا عام ہوا کہ اب اس پر ڈرامے بھی بن رہے ہیں ۔اس بات پر تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ قصور کس کا ہے اور اس کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالنی ہو گی تا کہ معلوم ہو سکے کہ بطور حکمران اور بطور عوام ہمارئے کیا حقوق ہیں اور ان حقوق کو کون سا طبقہ کس وقت پامال کرتا ہے ۔اسی تناظر میں پہلے امریکی دھمکی پر بحث کی ضرورت ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ امریکی صدر نے یہ اچانک فیصلہ کیا یا پھر پاکستان پر دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہونے کے متعلق امریکیوں کا ہوم ورک مکمل ہے ۔ہم امریکی صدر کو بیوقوف کہتے رہیں لیکن وہ بھی آخر اپنی قوم کے سامنے جواب دہ ہے ۔دوسری طرف سوچنے کی بات ہے کہ کیا امریکہ نے اس سے پہلے ڈرون حملوں کے ذریعے ہماری ملکی سلامتی پر حملے نہیں کیے اگر ہماری خوداری آج متاثر ہو رہی ہے تو کیا ہم اس سے پہلے سوئے ہوے تھے ۔اور اگر اب بھی امریکی حکومت نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے ایسی زمینی یا بھر فضائی کاروائیاں شروع کیں تو ہمارے پاس ان کو روکنے کے لیے کیا طریقہ ہے ۔کیا ہم اقتصادی طور پر اتنے مضبوط ہوچکے کہ امریکیوں کو منہ طور جواب دے سکیں۔صرف سڑکوں پر امریکی صدر کے پتلے جلانے اور ان کے جھنڈے کو پاوں تلے روند کر تو ملکی غیرت پر آنے والی ضرب کا جواب نہیں دیا جا سکتا میں نے ذاتی طور پر کئی ایسی شخصیات کو جانتا ہوں جو امریکہ پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن کسی معمولی امریکی اہلکار کے سامنے ایسے باادب کھڑے ہوتے ہین جیسے ان کے ذاتی غلام ہوں ۔اس لیے میری اپنی پیاری قوم سے ہاتھ جوڑ کر منت ہے کہ ہمیں اپنی قومی غیرت پر آٹھنے والے سوالوں کا دوبارہ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔صرف اتنی بات کو مد نظر رکھیں کہ اگر کسی غیر ملکی فورس کی طرف سے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملے کا بہانہ بنا کر کارروائی کی جاتی ہے تو مقابلے کے لیے ہمارے پاس کیا وسائل ہیں۔اور جو وسائل ہمارے پاس ہیں ان کا عوام کو تو علم نہ ہوگا حکمران تو بہتر طور پر جانتے ہیں ۔یہ نہ ہو کہ پھر وہ وقت بھی آ جاے کہ عوام اور حکمران یہ کہنے پر مجبور ہو جاہیں کہ ہمارا کیا قصور ہے ۔میرا ان مسائل کی نشاندہی کرنے کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ قوم کو مایوس کیا جاے ایک مسلمان ہونے کے ناطے مایوسی گناہ ہے لیکن وقت کی حقیقت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے ۔اب ذرا ملکی سیاست پر بھی بحث کر لینی چاہیے جہاں پر سابق وزیر اعظم نے جی ٹی روڈ پر ایک سوال آٹھایا تھا اور اب وقت گزرنے کے ساتھ ان سوالوں کی تعداد بڑھ کر تیرہ ہو چکی ہے اور ان میں مزید اضافہ محترمہ مریم نواز کررہی ہیں مجھے تو یہ شک ہونے لگا ہے کہ ن لیگ نے کوئی ایسا تقریر دان ڈھونڈ لیا ہے جو امتحانات میں سوالی پرچہ ترتیب دینے کا ماہر ہے بس ایک غلطی ان سے ہو رہی ہے کہ وہ تمام سوالوں کے جواب مانگ رہے ہیں اگر وہ اپنے سوال کم کر دیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ قوم اور جواب دینے والوں کو سوال یا د رہیں ۔ورنہ ن لیگ والے خود ہی سوال ترتیب دہنے والے سے پوچھنے پر مجبور ہو جاہیں گے کہ ہمارا کیا قصور ہے ۔ان سوالوں کا جواب تو شائد کبھی تاریخ دے ڈالے بلکہ اگر اب بھی تاریخ پڑھنے کی زحمت کر لی جاے جو کہ ایک مشکل کام ہے تو جواب مل سکتا ہے ۔اور اس کا جواب بہت سادہ سا ہے کہ قوم نے اپ سے جو توقعات وابستہ کیں وہ کچھ ایسی تھیں کہ قوم کے خیال میں اپ ایک ایسے حکمران ہوں گے کہ اگر آپ کسی خشک دریا میں ایک خط لکھ کر ڈال دیں تو وہ بہنا شروع کر دے گا نہ کہ بہتے ہوئے دریا بھی خشک ہو جاہیں ۔اپ اپنی حکمرانی کے لیے دستور کو تبدیل کریں گے تو اپ کے جانے کی کوئی اور وجہ بن جاے گی ۔میرے جیسا دستور کا کم علم بھی جانتا ہے کہ جو بھی حکمران عوام کے حقوق ان کے گھر تک نہیں پہنچاتا وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اپ اور کچھ نہ کریں صرف ایک بار دستور کا مکمل مطالعہ کر لیں تو اپ کو معلوم پڑے گا کہ آپ کا کیا قصور ہے ۔عوام تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کا حکمران ایسا ہو کہ وہ سو رہے ہوں تو حاکم وقت جاگ رہا ہو اور جب وہ نیند سے بیدار ہوں تو ان کے مسائل حل ہو چکے ہوں اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو اور سب سے آسان طریقہ پہلے کی طرح آج پھر آپ کو بتا رہا ہوں ۔جناب اپنی والدہ محترمہ کے حضور پیش ہوں اور ان سے باادب ہو کر سوال کریں کہ اپ نے بطورحکمران کہاں غلطی کی ہے ملک کو کیسے چلایا جاتاچاہیے وہ اس کا اصل جواب آپ کو دیں گی کہ انہوں نے مشکل میں کس طرح گھرمیں حق حکمرانی ادا کی ۔خانہ داری کے ساتھ اولاد کے حقوق اور سب سے ایک جیسے برتاؤ کے لیے کون سی حکمت عملی اختیار کی ۔نواز ،عباس اور شہباز کی ضدوں اور خواہشات کو کس طرح پورا کیا ۔آپ کو بھی عوام کو اپنی اولاد سمجھ کر ان پرحکمرانی کرنی چاہیے تھی۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں