452

2018 کے پہلے دن ہی ٹرمپ کا پاکستان کے خلاف بیان، نئی پالیسی یا ڈراؤنا خواب ؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے رات کو کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا تھا جو نئے سال کی پہلی ہی صبح سات بجے اٹھ کر پاکستان کو دھمکی دے ڈالی یا یہ واقعی کوئی مستقل پالیسی اور اعلان جنگ ہے؟

ذرا اسکو سمجھئے۔

امریکہ چین کی بڑھتی طاقت کو ہر صورت لگام ڈالنا چاہتا ہے۔ چین کی سب سے بڑی کمزوری وہ سمندری گزرگارہ ہے جسکو انڈیا کنٹرول کرتا ہے دوسرے لفظوں میں امریکہ۔ سی پیک کی شکل میں چین براہ راست خلیج سے تیل خریدنے کے قابل ہوجائیگا۔ جس کے بعد چین بڑی حد تک انڈین اور امریکی اثرو رسوخ سے آزاد ہوجائیگا۔

پاکستان چین کے ساتھ سی پیک کے حوالے سے یو آن میں لین دین کرنے کا معاہدہ کر کے ڈالر پر پہلا وار کرنے والا ہے۔ ڈالر ہی امریکہ کی اصل طاقت ہے۔

یہ طے ہوچکا ہے کہ افغان طالبان کا اس خطے میں اکلوتا مددگار پاکستان ہے جس کی بدولت انکی مزاحمت کمزور ہونے کے بجائے توانا ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ کو یقین ہے کہ جب تک پاکستان کا وجود ہے افغان طالبان کی قوت کو توڑا نہیں جا سکے گا۔ افغان طالبان کے ہوتے ہوئے داعش بھی افغانستان میں قدم نہیں جما سکتی جس کو یہاں سے روس اور چین تک بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

روس پاکستان کے قریب آرہا ہے جو امریکہ کے لیے قطعاً کوئی اچھی خبر نہیں۔ بلکہ دونوں ممالک نے ایس سی او کی شکل میں مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی سائن کر لیا ہے۔

خلیج میں دہشت گردی کے ذریعے جو آگ لگانے کی کوشش کی جارہی اس کے خلاف اسلامی اتحاد کے نام سے بننے والی فوج میں اہم ترین کردار پاکستان کا ہے۔ بلکہ اس کے لیے پاکستان سے کم از کم تین ڈیوژن فوج بھی طلب کی جا رہی ہے جو اس اتحاد میں پاکستان کو فیصلہ کن قوت بنا دے گی۔ یہ اتحاد جلد ان شاءاللہ اسلامی دنیا میں مغربی پراکسیز کا مقابلہ کرے گا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اسکا ایک رکن افغانستان بھی ہے ۔۔۔۔۔۔ 🙂

سعودی عرب اور ایران کے حوالے سے چند دن پہلے پاکستان کے سپاہ سالار جنرل باجوہ نے پاکستانی سینٹ میں اعلان کیا کہ ” ہم دونوں میں جنگ نہیں ہونے دینگے ان شاءاللہ ” ۔۔ ایسے ہی عزائم کا اظہار راحیل شریف نے بھی کیا تھا اور میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اس حوالے سے مسلکی اختلافات دور کرنے کے لیے فضل الرحمن کو بھی ٹاسک دیا گیا تھا۔
سعودی عرب اور ایران کی جنگ امریکہ اور اسرائیل کی لاٹری ہوگی جو پاکستان کے ہوتے ہوئے نہیں نکل سکتی ان شاءاللہ۔

سب سے بڑھ کر اسرائیل اپنی سرحدوں سے نکلنے کے لیے بے تاب ہے۔ ایک نیوکلئر پاکستان کی موجودگی میں مدینے تک جانا اسرائیل کے لیے ممکن نہیں۔ پاکستان کے ایٹمی دانت توڑنے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ نہ صرف یہ بلکہ اسلامی اتحادی افواج کی شکل میں پاک فوج براہ راست حجاز میں تعئنات ہونے جا رہی ہے۔

یروشلم والے معاملے پر امریکہ کو اقوام متحدہ میں جو سبکی اٹھانی پڑی اس میں پاکستان کا کردار اہم ترین تھا۔

یہ سب کچھ امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان 15 سال تک مسلسل ہمیں بے وقوف بناتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

اب وہ کیا کر سکتے ہیں؟؟

ففتھ جنریشن وار میں تیزی لائیگا۔ عوام اور افواج میں دوری، مسلکی اور لسانی بنیادوں پر عوام کو آپس میں لڑانا۔ جو شخص اس وقت پاک فوج کے خلاف بکواس کرے، یا فرقہ پرستی یا صوبائیت یا عصبیت کی دعوت دے اس سے بڑھ کر آپکا دشمن کوئی نہیں۔

دوسرا وہ معاشی پابندیاں لگائیگا ان حالات میں جبکہ منتخب جمہوری حکومت پاکستان کو تقریباً دیوالیہ کر چکی ہے اور پاکستان کو فوری طور پر کم از کم 40 ارب ڈالر درکار ہیں۔

تیسرا وہ پاکستان میں سرجیل سٹرائکس کر سکتا ہے خاص کر مرید کے میں۔ حافظ سعید صاحب کے مراکز کو احتیاطً سرکاری تحویل میں لینا اچھا اقدام ہے۔ حافظ سعید صاحب کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا جانا چاہئے۔

مجھے فلحال اس پر یقین نہیں کہ امریکہ افغانستان اور انڈیا کے ذریعے پاکستان پر دو طرفہ حملہ کروا سکتا ہے۔

پاکستان دنیا کے سامنے موقف پیش کرے کہ اگر پاکستان کو امریکہ میں دہشت گردی کے محفوظ مراکز سے خطرہ ہے تو بارڈر پر باڑ لگانے کیوں نہیں دے رہا؟؟
پاکستان کی نشاندہی پر افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کو نشانہ کیوں نہیں بنا رہا؟
پاکستان نے جب افغان طالبان سے بات چیت شروع کروائی تو ملا اختر منصور صاحب کو کیوں ڈرون مار کر شہید کروا دیا؟؟

درحقیقت امریکہ صرف اس خطے میں فساد چاہتا ہے اور یہ بات انڈیا اور افغانستان کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ بھی اس آگ میں جلیں گے۔

مختصر عرصے میں یہ امریکہ کی پاکستان کو تیسری دھمکی ہے۔ جواباً پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت نے کسی پالیسی کا اعلان کیا ہے؟؟؟؟

اپنی رائے کمنٹس میں دئیجئے

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں