498

ڈاکٹر ارشد محمود ۔۔۔انسان دوست شخصیت

تحریر ۔۔ رضوان رفیق باجواہ

پاکستان کے سیاسی اور عسکری حالات پر اتنی زیادہ بحث ہو رہی ہے کہ اس موضوع پر کچھ دنوں بعد لکھنے کی جسارت کروں گا کیونکہ اتنے ماہرین میدان میں ہیں کہ میرے جیسے طالب علم کی بات سنی نہ جائے گی ۔ مزید تمید باندھنے سے پہلے ہی میں اصل بات کی طرف آ جاتا ہوں تاکہ موڑ کاٹتے ہوئے ہی اپنی بات سے ہٹ نہ جاوں ۔ویسے بھی مجھے سامنے لکھا ہوا نظر آ رہا ہے کہ آگے خونی موڑ ہے ۔ ذرا احتیاط سے ۔
آج ایک ایسی شخصیت کے بارئے اگہی دینے جا رہا ہوں جو نہ تو کسی سیاسی لیڈر کی طرح شہرت کے پجاری ہیں اور نہ ہی ان کو دنیاوی رسم ورواج سے سروکار ہے اپنی ہی مستی میں یہ شخصیت خدمات کے جذبے سے قدرتی طور پر ایسی سرشار ہے کہ ان کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ کسی دنیاوی الجھن کا شکار ہوں ۔ بطور صحافی میں نے بہت سے ایسے افراد دیکھے ہیں جو شہرت کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیا ر ہو جاتے ہیں اگر ان کا ذکر کروں تو پھر وہی بات کہ آگے خونی موڑ ہے ۔جی تو میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ڈاکٹر ارشد محمود کا جو میرے خیال میں جس طریقے سے انسانیت کے لیے خدمات سرانجام دئے رہے ہیں معاشرئے میں یہ کام بہت کم لوگ کر رہے ہیں ڈاکٹر صاحب نے سرکاری نوکری سر گنگارام اسپتال میں کی اور میری ان سے ملاقات بھی وہاں پر ہی ہوئی ویسے تو اس اسپتال سے میری بہت سی یادیں وابستہ جن میں بری کو میں بھول چکا اور اچھی یادیں میرئے لیے اثاثے کی حثیت رکھتی ہیں ۔ میں اسپتال میں چیک اپ کے لیے وحید بھائی کی وساطت سے ڈاکٹر ارشد صاحب سے ملا تو وہ مریضوں کے چیک اپ میں مصروف تھے جیسے ہی تھوڑا وقفہ پڑا وحید بھائی نے ڈاکٹر صاحب سے میرا صحافتی تعارف کروایا حالانکہ میں نے ذاتی طور پر کبھی یہ پسند نہیں کیا کہ کام کے لیے صحافت کا سہارا لیا جائے لیکن اس وقت وحید بھائی کے نرغے میں تھا وہ مسلسل ڈاکٹر صاحب میرا تعارفی پروگرام پیش کر رہے تھے ابھی ان کا میرے بارئے تعارف ختم نیں ہوا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے ان کی بات کاٹ کر میرے خاندان کے بارئے گفتگو شروع کردی مجھے ایسا لگا کہ ڈاکٹر صاحب تو مجھے برسوں سے جانتے ہیں اور اس میں حقیقت بھی تھی ان سے یہ پہلی ملاقات تھی لیکن جان پہچان بہت پرانی نکلی میں بطور مریض ان کے پاس حاضر ہو ا اور انہوں نے اپنی سحر انگیز باتوں سے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کروانے پر میں آج بھی وحید بھائی کا شکر گزار ہوں کیونکہ وہ بھی ہروقت لوگوں کی خدمت میں مگن رہیتے ہیں اور شائد اسی وجہ سے ان کا ڈاکٹر صاحب سے محبت کا رشتہ قائم ہے اللہ ان کے اس انسان دوست جذبے کو ہمیشہ قائم رکھے ۔اس کے بعد ڈاکٹر ارشد صاحب سے ان کے کلینک میں جو کہ اندرون شہر میں ہے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا بلکہ میں نے کئی ایسے مریض بھی ڈاکٹر صاحب کے پاس بھجوائے جو مستحق تھے یا وہ چھری مار ڈاکٹروں کے زخم خوردہ تھے ۔ پڑھنے والے میرا اصرار ہے کہ یقین کریں کہ میں کئی دفعہ علاج کی غرض سے ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا اور دوائی لیے بغیر ہی تندرست ہو کر واپس آگیا ان کے طریقہ علاج میں یہ بات اہم ہے کہ کہ وہ اپنی فیس بنانے کے لیے مریض کو چیک نہیں کرتے بلکہ میں نے دیکھا انہوں نے کئی مریضوں کو ادویات کے بغیر ہی ان کے مرض سے چھٹکارا دلوا دیا ۔کسی کو بھل اور کسی کو زندگی گزارنے کے طریقے میں تبدیلی لانے کا بتا کر علاج کر دیا ۔وہ مریضوں کے ساتھ شفقت سے بھی پیش آتے ہیں اور غصے کا اظہار بھی کرتے ہیں ایسے ہی جیسے کوئی اپنی اولاد کے ساتھ خوش اور ناراض ہو رہا ہو ۔مریض ان سے دوائی دینے کی ضد کرتے ہیں اور وہ ان کو پیار اور محبت سے بیماری کی اصل وجوہات کو دور کرنے کا کہتے ہیں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ گھریلو حالات بہتر کرو گھر میں پیار اور مساوات کے ساتھ رہو تو کئی بیماریوں سے جان چھوٹ جائے گی کسی خاتون کے سر میں درد ہے اور چکر ااتے ہیں تو ساتھ آئے ہوے شوہر کو ڈانٹتے ہیں تو مریضہ کی بیماری رفوچکر ہو جاتی ہے اور اگر شوہر کی طبعیت خراب ہے تو اس مریض کی اہلیہ کو خدمت کی تلقین کرتے ہیں اور پھر سختی سے کہہ دیتے ہیں کہ کسی دوائی کی ضرورت نہیں ماحول کو بہتر کرو ۔ڈاکٹر صاحب کے پاس چلے جاو تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بندہ اپنے گھر میں ہے مجھے تو یہ مکمل یقین ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے انسانیت کی خدمت پر روحانی درجہ بھی دے رکھا ہے جس کا شائد ان کو بھی علم نہیں اور وہ اسی خدمت میں مسلسل جھتے ہوے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب انسانیت کی خدمت اتنے مگن ہیں کہ وہ اپنے گھر اور خاندان کے افراد کو بھی وقت نہیں دے پاتے ان کے عزیز رشتہ دار ان سے خفا ہوتے ہیں کہ وہ فیملی کے کئی اہم فنکشن میں بھی شرکت نہیں کر پاتے ۔ مین نے اپنی صحافتی زندگی میں بہت سے بڑے ڈاکٹروں سے ملاقات بھی کی اور ان کے انٹرویو بھی کیے لیکن ڈاکٹر ارشد صاحب جیسا جذبہ بہت کم دیکھنے کو ملا ہے ۔ زندگی کے اس سفر میں ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ میں نے والد محترم کی تحریر کی ہوئی کتاب ورشن سائے کے نام سے ایک فلاحی تنظیم بنائی تو فری میڈیکل کیمپ لگانے کے بارے سوچا اور اس سوچ کو لے کر ڈاکٹر صاحب کے پاس حاضر ہوا تو مجھے ایسا لگا کہ وہ تو پہلے سے ہی انتظار میں تھے انہوں نے کہا کس دن فری میڈیکل کیمپ لگانا ہے انہوں نے اپنا فون آٹھایا اور میڈیسن کمپنی سے رابطہ کیا ان کو میڈیکل کیمپ لگانے کا پتہ بتایا اور لمحوں میں سارا کام کر کے مجھے کہا اپ تیاری کریں میں اور میری ٹیم خود ہی پہنچ جائے گی ۔اب مجھے تو اندازہ نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحب تو ایسے کہ جیسے پہلے سے ہی سارا انتظام کر کے بیٹھے ہیں پھر کیا تھا میں نے بھی ان کے انسانیت دوست جذبے کے پیش نظر وقت پر انتظامات مکمل کیے اور ڈاکٹر صاحب کی پوری ٹیم بہت خوش ہوئی ۔ڈاکٹر صاحب کی محبت انسان دوستی شفقت کے بھروسے پر یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ڈاکٹر صاحب روشن سائے ویلفیئر فاونڈیشن فری میڈیکل کے سربراہ بھی ہیں اور تنظیم کی طرف سے جانے والے مریضوں کو نہ صرف چیک کرتے ہیں بلکہ ان کو ادویات بھی اپنے پاس سے دیتے ہیں کچھ دن پہلے علیل ہوئے تو میں تنظیم کے وفد کے ہمراہ ان کی مزاج پرسی کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کو بچوں کی طرح اپنی علاج گاہ جانے پر بضد دیکھا وہ اپنے مریضوں کے بارئے پریشان تھے اور جلد از جلد ان کے درمیان جانے کے لیے بیتاب بھی۔ڈاکٹر صاحب نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک بھی کئی انٹرنیشنل کانفرنسز میں شرکت کر چکے ہیں جہاں پر انہوں نے طریقہ علاج پر مقالے پڑھے ۔صحت کے شعبے میں وہ ایک محترم نام رکھتے ہیں ان پر اللہ کی نوازشات کی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے شعبے میں دولت کے انبار نہیں لگائے دل کے صاف آدمی ہیں اور محنت پر یقین رکھتے ہیں وہ چاہتے تو اپنے ہم عصر کئی ڈاکٹروں کی طرح پیسہ بنانے والی مشین بن سکتے تھے لیکن انہوں نے فلاح کا راستہ چنا اور اللہ کی خوسنودی حاصل کر رہے ہیں آج اگر وہ اپنی صحت کے حوالے سے پریشان ہیں تو یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش کی گھڑی ہے جو ان کی کی ہمت اور بہادری سے گزر جائے گی اور وہ پھر سے انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے میدان عمل میں ہوں گے پاکستان اور دنیا بھر میں ان کے چاہنے والے ان کے لیے دعا گو ہیں اور اللہ اپنے چاہنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا ۔ چلتے چلتے ڈاکٹر صاحب کی ایک اور خوبی بھی بیان کر دوں کہ حالات چاہے جتنے بھی مشکل ہوں ڈاکٹر صاحب مایوس نہیں ہوتے خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ بھی مزاح کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور اپنی فیملی ساتھ ان کا دوستانہ رویہ یہ بات ثابت کرتا ہے کہ وہ زندہ دل انسان اور انسانیت کے لیے مسیحا کی حثیت رکھتے ہیں ۔ہم تمام ان کے چاہنے والے اللہ سے دل کی گہرایوں کے ساتھ دعاگو ہیں کہ وہ ایک نایاب ہیرے کی ماند ہیں جن کو لوگوں کے دکھ بانٹنے کے لیے صحت و تندرستی ؑ عطا ہو

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں