62

میں بولتاہوں تو الزام ہے بغاوت کا

تحریر ۔۔ رضوان رفیق باجواہ
کالم کا نام ۔۔ روشن سائے
rizwan_bajwa1@hotmail.com
تیس سال قبل ایک قومی اخبار میں قیام پاکستان کے وقت زمینوں کی جعلی الاٹ مینٹ کے ذریعے ہمارے اوپر حکمرانی کرنے والوں کا ذکر کیا تو دوستوں نے کہا تم بغاوت کر رہے ہو اور بغاوت کرنے کے نتائج سے تم واقف ہی ہو دراصل میرے یہ خیر خواہ مجھے زمانہ طالب علمی سے جانتے تھے جب ہم چند دوستوں نے پسے ہوئے طبقے کے حق میں باطل قوتوں کے خلاف بغاوت کی تھی اور یہ سلسلہ پانچ سال تک جاری رکھا اس کی تفصیل پھر کسی نشست میں عرض کروں گا لیکن یہ بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر آپ حق پر ہیں تو پھر بغاوت آپ پر فرض ہے اور خاص طور پر جب ریاست آپ کے حقوق پورے نہ کر پا رہی ہو ۔نظام حکومت تنزلی کا شکار ہو ۔ حکمران طبقہ اپنے مفادات کے لیے پسے ہوے عوام کو روڈ رولر کی طرح روند رہا ہو تو پھر کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہتا ۔میرا ذاتی نقطہ نظر آج بھی یہی ہے کہ سامراجی قوتیں ہمارے درمیان آج بھی موجود ہیں جو ہمیں نت نئے نعروں کے ذریعے خواب دیکھا کر ہمارے حقوق سلب کر رہی ہیں ۔ہمیں آج بھی قیام پاکستان کے بعد ان الاٹیوں سے اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے یہ وہ لوگ ہیں جو آج بھی ہمارئے حقوق تو کیا ہمارا خون بھی چوس چکے ہیں پھر بھی ان کا پیٹ خالی کا خالی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں کسی مسیحا کا انتظار کرنے کی بجائے خود اپناراستہ متعین کرنے کی کوشش کرنی ہو گئی وگرنہ یہ ظالم طبقہ ہماری سانسوں کو منہ پر پاوں رکھ کر بند کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے ۔ اض کہا جا رہا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کہ قریب ہے کیا اس کا ذمہ عوام کے سر ہے یا پھر وہ لوگ ہیں جو ستر سالوں سے ہم پر قابض ہیں جی ہاں ہم ایک محکوم قوم ہیں جس نے انگریزوں اور ہندوں بنیے سے تو آزادی حاصل کر لی لیکن یہاں پر آکر جاگیردار اور سرمایہ دار بننے کے بعد ہم پر حکمرانی کرنے والوں کے آج بھی غلام ہیں یہ کبھی سیاست دان کبھی امریت کبھی شوشلسٹ کبھی کیمونسٹ اور کبھی دین اور مذہب کی آڑ میں ہم پر مسلط رہتے ہیں اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ان کی پہچان کوئی مشکل کام نہیں عوام کو ہر دور میں نئے پاکستان کی فلم زبردستی دیکھانے کی کوشش کی گئی کسی نے سیاست دانوں کو کرپٹ تو ثابت کرکے اور کسی نے غریب کی آواز بن کر تو کسی نے دین اسلام کی حکمرانی اور احتساب کے نام پر عوام پر شب خون مارا عوام کو ہر جانے والا کرپٹ اور ہر آنے والے حکمران کو مسیحا کے روپ والی فلم عوام کے حقوق غصب کر کے دیکھائی گئی اور یہ فلم ہم قیام پاکستان سے لے کر آج تک بار بار نئے پرنٹ کے ساتھ مسلسل دیکھ رہے ہیں قیام پاکستان کا یہ الاٹی طبقہ آج پاکستان کی جڑوں تک پہنچ گیا ہے اگر ہم اب بھی خاموش رہے تو پھر کوئی ہماری مدد کو نہیں آے گا ہم اپنے گھر کو آثار قدیمہ بنانے کے خود ہی ذمہ دار ہوں گئے ۔ آج پھر سے پاکستان میں ایسی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے جو ہم پہلے بھی کئی بار دیکھ چکے ہیں عوام کو ڈرایا جا رہا ہے کہ معاشی بدحالی ہے اور اس میں صرف اپوزیشن نہیں حکومت بھی شور مچا رہی ہے ان کے ساتھ تجزیہ کار بھی شامل ہیں جو ہر روز مختلف چینلز پر قوم کو ڈروانے خواب دیکھا رہے ہیں ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی ٹیکنو کریٹ یا پھر عبوری سیٹ اپ میں شامل ہونے کے لیے قوم کو بھاشن دئے رہے ہیں ۔ایک بات سب کے سامنے رکھنا ضروری ہے کہ جن تجزیہ کاروں کو آپ روزانہ دیکھتے ہیں ان میں سے اکثریت کو پہلے سے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کس موضوع پر بولنا ہے یا پھر ان کو اپنی رائے دینے سے پہلے ایشو کا بھی معلوم نہیں ہوتا بس اینکر نے سوال کیا اور جواب شروع ہو گیا جس میں کوئی کام کی بات نہیں ہوتی بس وقت پورا کرنا ہوتا ہے چینلز کے اینکر نے اور تجزیہ کار نے ۔چند دن پہلے میں نے کئی سینئر صحافی حضرات سے پوچھا کہ آزادی صحافت کیا ہے تو مجھے اکثریت نے جواب دیا کہ اس موضوع کو نہ چھڑو ورنہ اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھو گئے اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ہم جو روزانہ ہر ایک کا پردہ چاک کرتے ہیں اندر سے کتنے کمزور ہیں ہم اپنی خواہشات کے تابع ہو چکے ہیں اس لیے ظلم کے خلاف آواز آٹھانے سے کتراتے ہیں اسی لیے ہم آزادی سے کوسوں دور یرغمالی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں خیر یہ تو صحافت کی بات تھی ہم تو ہر شعبہ میں یرغمال ہیں عوام اگر اپنے آس پاس نظر ڈالیں تو ان کو معلوم پڑ جائے گا کہ ان کے حقوق کون سلب کر رہا ہے سیاست دان ،جاگیر دار اور سرمایہ دار حکمران ۔ جی میرے نزدیک یہ سب لوگ کسی نہ کسی روپ میں ہم پر مسلط ہیں اور جہاں یہ خود نہیں وہاں ان کے کارندے اپنے چہرے کی رونمائی کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں ۔یہ کیسا ملک ہے جہاں جنم پرچی سے لے کر قبرستان کی پرچی تک اپ کو اس مافیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے پورا ملک کمیشن ایجنٹوں کے حوالے کر دیا گیا ہے ہر اس کام کا جو ااپ کا بنیادی حق ہے اس کو حاصل کرنے کا ریٹ مقرر کر دیا گیا ہے اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ کل تک کسی ناپسندیدہ شخصیت کو جو ٹماٹر مارے جاتے تھے وہ بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں اور اب ان کو یہ خطرہ بھی نہین رہا کہ انہوں نے عوام کے حقوق پورے نہیں کیے تو ان کو گندے ٹماٹر پڑیں گئے نہ ٹماٹر نہ انڈے اب گندے نہیں انمول ہوچکے جب سستے تھے تو گندے بھی مل جاتے تھے اب ان کا سٹیٹس تبدیل ہو چکا ہے اب ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جب عوام کے پاس ان الاٹیوں کو مارنے کے لیے کچھ نہ ہو گا تو پھر عوام کو ہی ڈنڈے پڑیں گے ان حالات کا ہم خود شکار ہوئے ہیں ہم نے ان کو خود اپنے پر مسلط کیا ہے ہم نے اپنے حقوق خود سے ان پیشہ ور ایجنٹوں کے حوالے کر دیے ہیں جو ہمیں گدھوں کی طرح ہانک رہے ہیں ہمیں اپنے اس طرز عمل میں تبدیلی لا کر ان سامراجی ،لا دینی قوتوں کے سامنے اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر میدان میں آنا ہو گا یہ سب پاکستان کے ٹھکیدار ہمیں مل کر بھی نہیں روک سکیں گے یہ کبھی جاگ پنجابی جاگ اور کبھی سندھو دیش کبھی بلوچی جاگ اور کبھی پٹھان جاگ کے دلفریب نعروں سے ہمیں دھوکا دیتے ہیں ہم کب تک ان کی نجی جیلوں میں پابند سلاسل رہیں گے ہماری چیخوں کی آوازیں کب تک ان کے قلعہ نما محلوں کی دیواروں ٹکراتی رہیں گی ۔شاعر نے ایسے ہی حالات پر کیا خوب کہا ہے ۔۔ سانسوں میں بغاوت کا سخن بول رہا ہے ۔۔ تقدیر کے فرزند کا دل ڈول رہا ہے ۔۔
دہقان کے افلاس پہ دل خون میں تر ہے ۔۔ مزدور کی حالت پہ لہو کھول رہا ہے ۔۔ انسان ہی ہر چیز سے سستا ہے جہاں میں ۔۔ انسان ہی ہر دور میں انمول رہا ہے ۔۔ جی پیاری عوام اب وقت ااپ کو آواز دئے رہا ہے اپنے کل کو فراموش نہ کریں اس سے سبق حاصل کریں اپ پر قابض طبقہ اپنا کل بھول چکا ہے اور یہی اس کی ناکامی ہے آپ تجبے سے ان کو آج اور کل شکست دئے سکتے ہیں یہ کمزور لوگ ہیں اور اپنی خواہشات کے اسیر ہیں آپ نے تو سب کچھ لٹا دیا ہے اب ان کے پاس عوام سے لوٹنے کے لیے کچھ نہیں بچا ایک معمولی سا دھکا ان کو بہا کر لے جائے گا میں آج تک اس بات کا قائل نہیں ہوا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا سب کچھ ممکن ہے اللہ نے جو نظام دنیا کے لیے بنا رکھا ہے اس میں مایوسی کا کسی طرح بھی عمل دخل نہیں اپ خود سوچیں کہ جب پاکستان کی آزادی کا قافلہ چلا تھا تو کئی بار لٹنے کہ کوئی بھی طاقت اسے روک سکی تھی اس وقت ہم نے اپنے لیے آزادی حاصل کی تھی آج ہمیں آزادی حاصل کرنی ہے اس پاکستان کو بچانے کے لیے اس کی صرف جغفرائی نہیں نظریاتی سرحدوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں باہر نکلنا ہو گا اور تاریخ چاہے دنیا کی ہو یا پھر پاکستان کی عوام نے جب بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے تو اسے کوئی طاقت روک نہیں سکی ہمین ان الاٹیوں اور ایجنٹوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کسی لیڈر کے دلفریب نعروں کی ضرورت نہیں عوام ستر سالوں سے ان کی مرضی اور منشا پر چل رہے تھے اب وہ دور ختم کرنے کے لیے یک جان ہو کر ان کو تاریخ کی سولی پر چڑھانے کا وقت آچکا ہے ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں