protest call against religious violence , sindh , hyderabad , inklaab news , inqilab news , inquilab news , pakistan 19

حیدرآباد:سندھی سنگت سندھ کے مرکزی چیئرمین منصور خاصخیلی کی احتجاج کال،مذھبی انتھاپسندی، سندھ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کو آباد کرنے کے خلاف

ذوالفقار کوسو نمائندہ انقلاب نیوزحیدرآباد
سندھی سنگت سندھ کے مرکزی چیئرمین منصور خاصخیلی کی جانب سے دی گئے احتجاج کی کال پر سندھ میں بڑھتی ہوئی مذھبی انتھاپسندی، سندھ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کو آباد کرنے کے خلاف سندھی سنگت سندھ اور سندھی ناری سنگت سندھ کی جانب سے حیدرآباد، جامشورو، سیری، کھتڑ، ہوسڑی، ٹنڈو محمد خان اور دیگر علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی اور پریس کلب کے سامنے مظاہرے کیے گئے۔ حیدرآباد میں سندھی سنگت سندھ کی جانب سے سندھ میں بڑھتی ہوئی مذھبی انتھاپسندی، سندھ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کو آباد کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی اور حیدرآباد پریس کلب کے سامنے مظاہرا کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے کو سندھی سنگت سندھ اور سندھی ناری سنگت سندھ کے رہنماوں ضمیر سندھی، شھمیر قمبرانی، فرزانہ شاھ، رضوانہ میمن اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں سے صوفی اور سیکیولر پہچان رکھنے والی سرزمین سندھ میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی صدیوں سے قائم سندھ کے امن کو تباھ کر رہی ہے، مذہبی انتہاپسند جھادی تنظیموں کا نیٹ ورک سندھ میں اپنی جڑوں کو مضبوط کرتے ہوئے سندھ کے اسکولوں، کالیجوں اور یونیورسٹیز میں طالب علم انتہاپسندوں کی جانب سے گمراھ کیے جا رہے ہیں، بین الااقوامی سطح پر پابند انتہاپسند تنظیمیں سندھ میں نفرت، شدت پسندی اور تشدد ٖپھیلا رہے ہیں، سندھ میں مدرسوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے،بڑھتیں مذہبی انتہا پسندی خطے ، ملک اور پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے، جهادی تنظیمیں سندھ کے غریب لوگوں کو گمراھ کر کے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں.رہنماوں کہا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے مگر انتھاپسند اپنے منفی مفاد کے خاطر معصوم عوام کو گھمراھ کررئی ھین ۔ مذہبی انتہاپسند دھشتگرد سندھ اور پورے ملک میں صوفی بزرگوں کی مزار، مسجد، مندر اور چرچ کو دھشتگردی کا نشانہ بنا کر معصوم انسانوں کا قتل کر رہے ہیں، سندھ میں سندھ میں ہر سال ہزاروں سندھی ہندو لڑکیوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، حال ہی میں مٹی میں دو سندھی ہندو تاجر ہلاک ہوئے لیکن حکومت مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے، سندھ حکومت سندھ مین مذھبی اقلیت سندھی ھندو کو تحفظ فراھم کررنے مین ناکام گئی ھین اور وفاقی حکومت بھی ملک مین مذھبی اقلیتون کو تحفظ فراھم کرنے مین ناکام گئی ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف ظلم تیزی سے بڑھ رہا ہے.اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے مگر انتہاپسند جہادی تنظیمیں مذہب کے نام پر معصوم لوگوں کو گمراھ کر ہے ہیں، سندھ میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی اور دھشتگری کو روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں خصوصی اقدامات نہیں اٹھا رہے ، سندھ میں بڑھتی غربت کی شرح کے باعث غریب سندھی والدین اپنے بچوں کو مدرسہ بھیج رہے ہیں، جہاں پر وہ گمراہ ہو رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کہ ملک میں مدرسہ میں 2 کروڑ سے زائد بچوں کی داخلہ ہے، افسوس کی بات ہے کہ ملک میں حکمران انتہاپسندی کی خاتمے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر ہے جس سے ملک دنیا مین بدنام ھو رھا ھین۔ سندھی سنگت سندھ کے رہنماوں کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد سے سندھ کی ڈیموگرافی کو شدید خطرہ ہے، سندھیوں کو اپنی سرزمین پر اقلیت میں تدبیل کرنے کی ایک سازش پر تیزی سے عمل کرتے ہوئے سندھ میں میگا پروجیکٹس بنائے جا رہے ہیں جو کہ مقامی سندھی آباد کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا ایک منصوبہ ہے، سندھ کی معیشت پر غیر قانونی تارکین وطن بوجھ ہیں، یہاں تک کہ وہ مقامی جرائم اور مذہبی انتہا پسندی میں بھی ملوث ہیں، موجودہ حالات میں سندھ کو شدید خطروں کا سامنا ہے، لیکن سندھ کے حکمران صرف کرپشن کرنے میں مصروف ہیں اور سندھ کے مسائل پر کوئی توجہ اور ان مسائل کے حل کہ لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہے۔ سندھی سنگت سندھ کے رہنماوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتھاپسندی کو روکنے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھا جائے، سندھ میں مذہبی اقلیتوں سندھی ہندو اور عیسائوں کو مکمل تحفظ فراھم کیا جائے، سندھی ہندو لڑکیوں کی اغوا اور مذہبی تبدیلی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے ان کو سزا دی جائے، سندھ میں انتہاپسندی پھیلانے والے مدارس پر پابندی عائد کی جائے، سندھ میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکا جائے، سندھ میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کو نکال کر اپنے ملک واپس بھجنے کے ساتھ سندھی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیے جائیں

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں