loan for pakistan, pakistan loan history, inklaab news 37

بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ, تہلکہ خیز انکشاف

طاہر رضی کی رپورٹ
انقلاب نیوز
حکومت 1,360 ارب روپے مقامی اور بیرونی قرضوں کی سود کی ادائیگی کرے گی جو ہمارے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے

* 2016ء بیرونی قرضے لینے کا ایک ریکارڈ سال تھا جب پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرضے 72.98 ارب ڈالر (7.4 کھرب روپے) تک پہنچ گئے۔ اس سال حکومت نے 7.9 ارب ڈالر اضافی قرضے لئے جبکہ مقامی بینکوں سے بھی 3.1 کھرب (30 ارب ڈالر)کے قرضے لئے گئے۔

* پاکستان کے بیرونی اور مقامی قرضوں کا مجموعہ کیا جائے تو حکومت نے گزشتہ 3 سالوں کے دوران 55 ارب ڈالر کے قرضے لئے جن میں چین سے لئے گئے قرضے شامل نہیں۔

* حکمت عملی کے پیش نظر آئندہ مالی سال پاکستان کے بیرونی قرضے 79.35 ارب ڈالر (8.3 کھرب روپے) اور 2020ء4 تک 87.1 ارب ڈالر (9.12کھرب روپے) کی خطرناک حد تک پہنچ سکتے ہیں

* آئندہ 18 ماہ میں ہمیں 11.5 ارب ڈالر کے قرضے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو واپس بھی کرنے ہیں۔

قرضوں کی حد کے قانون (Debt Limitation Act)کے تحت حکومت جی ڈی پی کا 60 فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتی لیکن ہمارے قرضے 65 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے 2.75 ارب ڈالر کے ڈالر اور سکوک بانڈز بھی جاری کئے جن کی ادائیگیاں 2017ء ، 2019ء، 2025ء اور 2036ء میں ہیں۔ ان میں 750 ملین ڈالر کا 6.18 فیصد شرح منافع 2017ء میں، ایک ارب ڈالر کا 6.75 فیصد شرح منافع اپریل 2019ء میں، 500 ملین ڈالر کا 8.25 فیصد شرح منافع 30 ستمبر 2025ء میں اور 500 ملین ڈالر کا 7.875 فیصد شرح منافع 31 دسمبر 2036ء میں ہے۔

حکومت نے حال ہی میں اپنے موٹرویز گروی رکھنے کے عوض ایک ارب ڈالر کے نئے سکوک بانڈ کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔

* گزشتہ سال 3500ارب روپے کے مجموعی ریونیو میں سے حکومت 1,360 ارب روپے مقامی اور بیرونی قرضوں کی سود کی ادائیگی کرے گی جو ہمارے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں