58

’فرق نہیں پڑتا کہ ماہرہ کی پشت پر ‘لو بائیٹ’ ہے یا آپریشن کا نشان‘

ماہرہ خان کو اپنے جسم، زندگی اور طرزِ عمل پر مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے جسے نہ دفاع کی ضرورت ہے اور نہ ہی تشریح و تاویل کی۔
ماہرہ خان اور رنبیر کپور کی تصاویر پر کھڑے ہونے والے تنازعے نے مجھے بہت پریشان کیا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر غصہ آ رہا ہے جنھیں ان تصاویر پر غصہ آیا تھا۔ مجھے ان لوگوں پر بھی غصہ آ رہا ہے جو سگریٹ نوشی، انڈین اداکار سے دوستی اور اپنی مرضی کا لباس پہننے جیسی چیزوں کا دفاع کر رہے ہیں کیوں کہ انھیں دفاع کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ میں ان لوگوں پر بھی برہم ہوں جو نیویارک میں وقت گزارنے والے بالغ افراد کی خلوت میں مخل ہوئے اور ان کی مرضی کے بغیر تصاویر کھینچ لیں۔
میرا خیال ہے کہ ماہرہ خان کے دفاع کے لیے سامنے آنے والے لوگ، بشمول میری اپنی اداکار برادری سے تعلق رکھنے والے، بنیادی طور پر غلط ہیں، چاہے ان کی نیت درست ہی کیوں نہ ہو۔ جب ہم کسی ایسی چیز کا دفاع کرتے ہیں جسے دفاع کی ضرورت ہی نہیں، جب ہم کسی ایسی چیز کی تاویل پیش کرتے ہیں جسے تاویل کی ضرورت ہی نہیں، جب ہم کسی ایسی چیز کی تشریح کرتے ہیں جسے تشریح کی ضرورت ہی نہیں، تو ہم اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں، اور ایک ایسی آگ کے لیے ایندھن فراہم کر رہے ہوتے ہیں جسے فوری طور پر بجھائے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ماہرہ کی پشت پر موجود نشان ‘لو بائیٹ’ ہے یا آپریشن کے زخم کا نشان۔ یہ کسی اور کی نہیں، ان کی اپنی پشت ہے۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ سگریٹ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ ان کی اپنی صحت کا معاملہ ہے، کسی اور کی نہیں کیوں کہ وہ گھر سے باہر، دوسروں سے دور سگریٹ پی رہی ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ایک انڈین ادکار کے ساتھ دوستی کر رہی ہیں۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا لباس کیسا ہے۔ یہ ان کا جسم ہے اور وہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ اسے کس حد تک چھپایا جائے یا دکھایا جائے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں