40

آگ کا دریا،،اور ڈوب کے جانا


تحریر: قاسم قاسمی

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث شہریوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ اے ٹی ایم یا بینک سے رقم نکلوانامحال ہو چکا ہے۔ پولیس اور رینجرز کے دعووں کے باوجود اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بڑھتی جار ہی ہیں ۔پریشان شہریوں کے مطابق پولیس جرائم پر قابو پانے کے بجائے انہیں چھپانے میں مصروف عمل ہے۔ ایک رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے 8ماہ کے دوران 18ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے یاچوری کیے جاچکے ہیں جبکہ پولیس ریکارڈ میں اس کی تعداد آدھی ہے۔
اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی اصل وجہ کرپٹ سیاسی نظام ہے جہاں ٹوٹ پھوٹ کا شکارسڑکیں چوروں اور لٹیروں کو چھپنے میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔شہر بھر کی سڑکوں پر تعمیراتی کام جاری رہنے کی وجہ سے ٹریفک کا رخ بدل دیا جاتا ہے جس سے ٹریفک کا جام ہونا معمول بن جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو میرٹ پر ہونے کے باوجود نوکریاں نہیں ملتیں ۔ میرٹ کو نظر انداز کر کے رشوت کو ترجیح دی جائے تو نوجوانوں کا ضروریات پوری کرنے کے لیے جرائم اور بے راہ روی پر گامزن ہونا اچمبے کی بات نہیں ۔کراچی آپریشن کے بعد دیگرسنگین نوعیت کے جرائم میں واضح کمی آئی ہے لیکن اسٹریٹ کرائم آج بھی پولیس کے لئے چیلنج سے کم نہیں۔ گزشتہ ماہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ وزیر اعظم نے گورنر سندھ سے کراچی آپریشن بارے پیش رفت اور جرائم کی وارداتیں دوبارہ بڑھنے کی خبروں کے متعلق استفسار بھی کیا ۔
شہر بھر میں بڑھتی وارداتوں نے خواتین کا جینا محال کر دیا ہے۔ گھر کی ضروری اشیا لانا خواتین کے لئے جوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔ شہر کا کوئی گلی کوچہ محفوظ نہیں ۔ گھروں سے روزی کمانے نکلے غربا راستوں، بس اسٹاپ اور گاڑیوں میں ڈکیتوں کا نشانہ بنتے ہیں اور مزاحمت کی صورت میں جان سے جاتے ہیں ۔ کچی بستیوں کی گلیاں سٹریٹ لائٹس نہ ہونے کے باعث لوٹ مار کے موزوں ٹھکانے بن چکی ہیں ۔عوام گھروں کے باہر تو کیا گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں۔دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک اور پاکستان کا معاشی حب ہونے کے ناطے امن و استحکام نہ صرف کراچی بلکہ وطن عزیز کے لیے بھی نہایت ضروری ہے
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں گزشتہ کچھ دنوں کے دوران انوکھی واردات رونما ہو رہی ہے ۔ موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہنے چھری بردار شخص کے خواتین پر چاکو حملے جاری ہیں ۔ گزشتہ روز تو ایسے حملوں میں تین گھنٹوں کے دوران 5 خواتین زخمی ہو گئیں ۔ خواتین پر حملے کرنے والا ملزم کون؟؟ کہاں سے آتاہے؟؟ خواتین پر کیوں حملے کررہا ہے،چاقو برادر حملہ آور ایک ہے یا پھر پورا گروہ، یہ سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔
پے در پے واقعات کے بعد گلستان جوہر سمیت دوسرے علاقوں میں بھی خوف و ہراس پایا جا رہا ہے ،،،خواتین اور بچے گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں۔مبینہ ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہونے کے باجود پولیس خوف کی علامت بنے ملزم کو ابھی تک گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔دوسری جانب آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کرلیں گے جبکہ پولیس کی جانب سے ملزم کی نشاندہی کرنے وا لے کو 5 لاکھ روپے دئیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے، دیگر معاشرتی ناانصافیوں کا شکار صنف نازک اب اس نئی مشکل سے دوچار ہو چکی ہے ۔میری حکام بالا بالخصوص وزیر اعلیٰ سندھ’وزیر داخلہ سندھ‘چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی رینجرز سے اپیل ہے کہ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام میں موثر اقدامات کیے جائیں۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں