are you really safe in khuzdar, inklaab news , inqilab news , pakistan , inquilab news , inklaab pakistan 8

کیا واقعی خضدار میں امن قائم ہے ؟؟؟؟

انقلاب نیوز
تحریر یونس بلوچ

ّیہ گزشتہ دنوں کی بات ہے میں اور ہمارے دوست صحافی عبدالواحد شاہوانی کسی کام کے سلسلے میں کراچی گئے تھے ایک بیٹھک کے دوران کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے یہ سوال پوچھا کہ کیا واقعی خضدار میں امن قائم ہو چکا ہے ہم دونوں نے بیک آواز کہہ دیا الحمد اللہ و ثمہ الحمد اللہ خضدار میں امن قائم ہے ہر طرف چہل پھیل ہے کرایہ پر مکان دکانیں نہیں مل ہی ہیں ہر طرف کنسٹریکشن کا کام جاری ہے پراپرٹی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے یہاں سے جو لوگ منتقل ہو گئے تھے وہ واپس آ گئے ہیں خضدار کی معیشت مستحکم ہوتی جا رہی ہے ہماری باتیں سن کر وہ مسکراتے ہوئے بولا،،،،،بھائی آپ کے شہر میں امن نہیں ہے ،، ،،،، امن نہیں کیا ؟؟ کیا مطلب رہتے ہم لوگ خضدار میں اور آپ دور بیٹھ کر یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ خضدار میں امن نہیں ؟؟؟؟ امن تو اس وقت خضدار میں نہیں تھی جب یہاں نہ کسی کا جان محفوظ تھا نہ مال محفوظ تھا لوگ نقل مکانی کر رہے تھے ،،، اب تو الحمد اللہ ہماری اجڑی ہوئی شہر آباد ہوتی جا رہی ہے لوگ آزادانہ کاروبار کر رہے ہیں ہاں کچھ لوگ اپنی زاتی مقاصد کے حصول کے لئے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ امن نہیں مگر زمینی حقائق وہی ہے جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں ،،،،، ارے بھائی میں کیسے یقین کروں کہ خضدار میں امن قائم ہے دس پندرہ دن پہلے رات گیارہ بجے ہماری گزر خضدار سے ہوئی ہم جب فیول ڈلوانے خضدار میں قائم واحد پیٹرول پمپ کا رخ کیا تو ہمیں مایوسی ہوئی پیٹرول پمپ بند تھا چوکیدار سے پوچھا کہ بھائی گیارہ بجے پیٹرول پمپ کیوں بند ہے کوئی ہڑتال ہے یا کہ پمپ مالک یا مزدوروں کی ایمرجنسی ہوئی ہے چوکیدار بیچار ایک جواب دیا کہ امن و امان کی وجہ سے یہ پیٹرول پمپ رات آٹھ بجے سے پہلے بند ہوتی ہے اور پھر صبح سات بجے دوبارہ کھل دی جاتی ہے یہ جواب سن کر ہم مجبوراً ایرانی پیٹرول والے منی پیٹرول پمپ سے پیٹرول ڈلوا کر روانہ ہوئے اور ان دو نمبر پیٹرول کی وجہ سے آگے جا کر ہمیں جو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا وہ ایک الگ کہانی ہے ہم نے اپنے اس دوست کو بتانے کی کوشش کی کہ بھائی ایک پمپ ہی تو بند تھا باقی دکانیں کھلی ہونگی ایرانی پیٹرول آپ کو ملا اس کا مطلب ہے کہ امن قائم ہے کہ آپ کو ایرانی پیٹرول تو ملا ،،، وہ مسکرائے اور کہنے لگے یہاں سے گزرنے والی ہر چھوٹی گاڑی اسی پیٹرول پمپ پر رکھتی ہے اور یہی سے فلیگ کر کے آگے روانہ ہو جاتے ہیں مجھے یقین ہے کہ خضدار میں امن قائم ہے آپ دونوں جو باتیں کر رہے ہیں وہ تمام باتیں حقائق پر مبنی ہے مگر یاد رکھیں آج کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ وہ قومی شاہراہ نہیں رہی جس پر منٹوں بعد ایک گاڑی گزرتی نظر آتی تھی یا لوگ رات کو سفر کرنے سے کتراتے تھے اب یہ شاہراہ انتہائی اہمیت کا عامل بن چکا ہے اس شاہراہ کو سی پیک ٹچ کرتی ہے ٹریفک پہلے کی نسبت بہت بڑھ چکی ہے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آج اس قومی شاہراہ سے دن و رات سفر کرتے ہیں رات کے وقت اگر کوئی اس پیٹرول پمپ پر فیول کے لئے رکھتا ہے اسے پیٹرول پمپ بند ملتی ہے اور چوکیدار یہ کہتا ہے کہ جب امن و امان کی مسئلہ تھا تو یہ رات کو بند رکھتا تھا ،آج بھی اسی شیڈول کے مطابق پیٹرول پمپ بند ہوتی ہے میرے بھائی امن خضدار کے باسیوں کو مبارک ہو مگر رات کی اوقات میں پیٹرول پمپ کی بندش سے آپ کے علاقے کے متعلق کوئی اچھی مسج نہیں جا رہی ہے میں عبدالواحد شاہوانی کی جانب دیکھا اس کی نظریں میری طرف متوجہ تھیں اور ہمارے پاس کوئی جواب کوئی دلیل نہیں تھا یہ باتیں یہاں شیئر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سب سوچھیں کہ کیا میرے بلکہ ہمارے دوست کے محسوسات درست ہے کہ نہیں ؟؟؟ ڈپٹی کمشنر خضدار محترم مجیب الرحمن قمبرانی صاحب معاملات کو باریک بینی سے دیکھنے والے انسان ہے ،اسسٹنٹ کمشنر خضدار حبیب نصیر بھی ان کی نگرانی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان دنوں آفسران سے گزارش ہے کہ پمپ مالک جو ہمارے علاقے کا ایک معتبر شخصیت ہے ان سے حال احوال کریں انہیں اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ کم سے کم پیٹرول پمپ رات بارہ بجے تک کھلا رکھیں ویسے بھی میری معلومات کے مطابق رات کے وقت پیٹرول پمپ کے لئے سیکورٹی بھی دی جاتی ہے اگر پیٹرول پمپ مالک کو اس حوالے سے کوئی خدشہ ہے تو وہاں فورسیز کی گشت کو بڑھائی جائے جس طرح بھی ممکن ہو سکے پیٹرول پمپ کو رات کے وقت کھلا رکھنے کا بندوبست کیا جائے ،،،،، میں پھر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہو الحمد اللہ ثمہ الحمد اللہ خضدار میں امن قائم ہے اور لوگ پر سکون انداز میں زندگی بسر کر رہے ہیں (السلام )

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں