6 children died food shortage,,tharparkar, inklaab news ,pakistan 23

تھرپارکر:تھر میں  سردی کی لہر،وبائی امراض اور غذائی قلت کے باعث مزید 6بچے دم توڑ گئے

رپورٹ :مریم صدیقہ انقلاب نیوزمٹھی
تفصیلات کے مطابق تھرپارکر میں دو  سردی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس کے باعث وبائی امراض اور غذائی اموات نے  بچوں کے اموات کو  بڑھادیا ۔سول اسپتال میں نمونیا اور غذائی قلت کے باعث 6بچے لقمہ اجل بن گئے جس مین 16دن کا ھریش ولد گوتم۔ ایک سالہ کا بشارت خان ولد محبوب ۔2دن کی بی بی  بنت امام علی بجیر۔ ایک ھفتہ کا ثناء اللہ ولد جلال دین ۔ایک دن کا نومولود حسین کا بچہ شامل ہیں جبکہ دو مھینوں میں بچوں کے موت کی تعداد 66 ہوگئی  ہے۔ ادھر مٹھی اسپتال میں 30سے زائدہ بچے اور 100سے زائد بیمار مریض زیر علاج ہیں جس میں زیادہ سردی کے وجہ سے کھانسی فلو بخار کے مریض ہیں جبکہ تھر کے تمام شھروں کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں سخت سردی کے باعث بڑی تعداد میں امراض میں اضافہ ہواہے ۔تھرپارکر کے دیہی اور شھروں کی اسپتالوں میں ادویات اور سھولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔اسی حوالے سے ڈسٹرکٹ ھیلتھ آفیسر تھرپارکر نے کوئی نوٹس نہیں لیا نہ ہی ادویات کی قلت پوری کرنے کے لئے سندھ حکومت کا آگاھ کیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کی عدم توجہ سے مریضوں کو علاج کی سھولیت میسر نہیں ہوپارہی ہیں۔سول اسپتال مٹھی سمیت دیہی علاقوں اورتحصیل اسپتالوں کی انتظامیہ ڈسٹرکٹ ھیلتھ آفیسر کو تین ماھ قبل ہی ادویات کی قلت سے آگاھ کر چکے ہیں مگر انتظامیہ نے اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔اب سول اسپتال میں مریضوں خصوصا بچوں کے وارڈوں میں بہت رش ہے۔بیڈ بھی کم پڑ گئے ہیں۔دیہی علاقوں کے محکمہ صحت کے زیر نگرانی اسپتالوں میں جو ادویات دی جاتی ہیں وہ صرف چالیس مریضوں کو دی جاسکتی ہیں۔جبکہ ان اسپتالوں میں روزانہ کی بنیادوں پر ہی چالیس سے پچاس مریض آتے ہیں ۔اب اس طرح وہ ادویات ایک دن بھی مشکل سے چلتی ہیں باقی دن مریضوں کو کوئی ادویات نہیں دی جاتی ہیں۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ھیلتھ آفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن میمن سے موقف لینے کے لئے   رابطے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے فون اٹینڈ کرنے کی زحمت نہیں کی

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں