23

صحافی ڈیفنی کیروانا گیلیزیا ۔۔۔ جرات اور بہادری کا نام

تحریر ۔۔ رضوان رفیق باجواہ
کالم کا نام ۔۔ روشن سائے
rizwan_bajwa1@hotmail.com

دنیا بھر میں ویسے تو ہر سال سینکڑوں صحافی اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور انہوں نے موت کو قبول کرنے کا مقام ایک دن کی محنت سے حاصل نہیں کیا بلکہ اس میں برسوں کی محنت کارفرما ہے- یہ صحافی زندگی بھر اس نظریہ کے ساتھ پل صراط پر چلتے ہیں کہ انہوں نے نہ تو کسی کا دباو قبول کرنا ہے اور نہ ہی صحافت کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہے- موت کو گلے لگانے والے صحافی جس نظریے پر کام کرتے ہیں وہ نظریہ ہی جان دینے سے شروع ہو کر جان دینے پر ختم ہوتا ہے- چونکہ ڈر اور خوف ان سے کوسوں دور ہوتا ہے وہ اس لیے کسی کے دباو میں نہیں آتے- انہوں نے زندگی میں نہ اپنے مفاد اور نہ کسی کے مفاد کی خاطر خدمات سرانجام دی ہوتی ہیں اور یہ قدرتی طاقت ہوتی ہے کہ جب انسان کسی کی ناجائز تابعداری نہ کرے تو وہ بے خوف ہو جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایک ہی نظر میں آپ کو مفاد پرست اور جان پر گزرنے والے صحافی نظر آ جائیں گے۔ ویسے تو یہ قدرت کا نظام ہے کہ جو انسان اپنے مفاد کو مد نظر رکھے گا وہ نہ دلیر ہو گا اور نہ ہی زندگی میں اپنے مشن کے لیے جان دینے کی ہمت رکھتا ہے- جان وہی لوگ دیتے ہیں جو صحافت کو مشن کے طور پر اپناتے ہیں اور اس مشن پر زندگی بھر کاربند رہتے ہیں ۔گزشتہ کچھ عرصے میں جہاں دوسرے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے وہاں صحافت کی ترجیہات تبدیل ہو گئی ہیں- صحافت میں جہاں پہلے محنت سے مقام بنانے کاحصول کارفرما ہوتا تھا اب گلیمیر نے جگہ لے لی ہے- روشنیوں کی چمک دھمک میں بعض ایسے افراد صحافت کے میدان میں براجمان ہو گئے جنہوں نے صحافت کے اصول و ضوابط تبدیل کر دیئے ہیں۔ یہ موضوع اتنا طویل ہے کہ اس پر کئی اقساط لکھی جا سکتی ہیں لیکن میرا آج کا موضوع ایک ایسی خاتون صحافی ہے جس نے اپنی زندگی میں پرخطر مشن کو اپنائے رکھا نہ اپنا راستہ تبدیل کیا اور نہ ہی کسی کا دباو قبول کیا- ویسے تو انہوں اپنی 53سالہ زندگی میں صحافت کے ساتھ گھریلو ذمہ داریاں بھی خوش اسلوبی سے سر انجام دیں بلکہ ان کو اپنے خاندان میں صحافت میں نمایاں مقام ہونے کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اکثر وہ گھریلو مصروفیات اور صحافتی ذمہ داریوں میں سے صحافت کو ترجیح دیتیں۔ ڈیفنی خاتون میں ظلم کے خلاف جنگ لڑنے کا عزم ایک دن میں ہی پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول میں ہونے والی ناانصافیوں کو دیکھ کر یہ جذبہ پروان چڑھا. ڈیلفی ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئیں جہاں ہر طرف کرپشن اور اس کے خلاف بولنے والوں پر ظلم کا بازار گرم تھا- مالٹا جیسے چھوٹے ملک میں جمہوریت کے باوجود حکمران اور اپوزیشن مل کر عوام کا خون چوس رہے ہیں- صحافی ڈیفنی خاتون نے ہی ان کے خلاف آواز نہیں آٹھائی ان کا خاندان ان کا اپنا گھرانہ بھی ان کے ساتھ ظلم اور کرپشن کے خلاف شریک تھا ۔وہ 53 سال کی عمر میں بھی ایک پر جوش خاتون کی طرح اپنے کام میں مگن تھیں کوئی ایک دن بھی ایسا نہ آیا تھا کہ ان کے ساتھیوں نے انہیں کرپشن اور لوگوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے لڑتے ہوئے تھکتے یا ہارتے ہوئے دیکھا ہو۔ اپنی زندگی کے آخری روز ڈیفنی صحافتی ذمہ داری کے لیے جب گھر سے نکل رہی تھیں تو ان کے بیٹے میتھیو کے مطابق وہ گہری سوچوں میں گم اور جلدی میں تھیں انہوں نے جانے سے پہلے گھر کے تمام امور خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے اور بیٹے کو چند خصوصی ہدائیات دے کر گھر سے روانہ ہو گیءں گھر سے نکلتے ان کے چہرئے پر بے چینی نمایاں تھی ڈیفنی کے بیٹے میٹھیو نے ماں کو پیار بھری نظروں سے رخصت کیا اور دور تک اپنی ماں کی گاڑی کو دیکھتا رہا وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ ایک زور دار دھماکے کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور جب اس نے اس آواز کا تعاقب کیا تو سکتے میں آ گیا- اس کی جنبت بکھر چکی تھے اس نے بکھرے ہوئے انسانی جسم کے ٹکروں میں ماں کی روح کو تڑپتے دیکھا- جس گاڑی میں اس کی ماں پیشہ وارانہ ذمہ داری کے لیے روانہ ہوئی وہ ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی- ظالموں نے میتھیو کی ماں کو بم دھماکے میں ہلاک کر دیا- وہ ماں جو چند لمحے پہلے جلد واپس آنے کا کہہ کر گئی تھی- ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گئی اور اپنی موت پر کئی سوال چھوڑ گئی اب مالٹا کی پولیس اور کئی دوسرے ادارے ڈیفنی کی موت کی تحقیقات شروع کریں گی- حکومت نے ان کی موت کے ذمہ داروں کا بتانے پر عوام سے اپیل بھی کی ہے اور اس پر رقم دینے کا اعلان بھی کیا ہے ۔لیکن ڈیفنی کا قصور کیا تھا کیا وہ اپنے مفاد کے لیے اپنی ذات کے لیے اپنے ملک کے گارڈ فادروں کے سامنے ڈٹ گئی تھی جی نہیں ڈیفنی کو عوام پسند کرتے تھے وہ اسے اپنا نجات و ہندہ سمجھتے تھے ڈیفنی نے اپنی زندگی میں کئی اعزاز حاصل کیے لیکن موت کو گلے لگا کر اس نے دنیا بھر میں بطور صحافی کام کرنے والوں کے لیے ایک مثال قائم کر دی ۔ ڈیفنی نے جہاں اپنے ملک کے گارڈ فادروں کو بے نقاب کیا تھا وہاں پر ہی دنیا بھر میں مقبولیت پانے والے کرپشن کے معاملے کو بے نقاب کیا تھا اور جب سے انہوں نے حکمرانوں اور مالٹا کے دیگر طاقت ور طبقے کی خفیہ آف شور کمپنیوؔ ں بے نقاب کیا تھا ان کی زندگی میں خطرات بڑھ گے تھے ان کو اور ان کے خاندان کو عبرتناک انجام کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور آخر جرائم پیشہ افراد ڈیفنی کو موت کی نیند سلا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گے ۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کوئی صحافی اصولوں پر سودئے بازی نہ کرنے پر مار دیا گیا ہو سوثنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ کیا ڈیفنی کی موت سے کرپشن کے کیس دب جایں گے جس صحافی کے انکشاف سے حکومت ہل گئی بلکہ حکومت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے اس کی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں رکے گا ڈیفنی کی موت نے کرپشن کیسوں کو دوبارہ سے زندہ کر دیا ہے اس نے کرپشن کے خلاف مالٹا میں آواز آٹھائی تھی لیکن اب ڈیفنی کا مشن دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اس کے گھرانے نے ایک ماں اور بیٹی کو کھو کر اس کے مشن کو مزید مضبوط کر دیا ہے جو مقام ڈیفنی کو ملا ہے حکمرانوں کو ائندہ بھی حکومت مل جاے گی عوام ان کو ایک بار پھر منتخب کر لیں گے لیکن وہ عزت کہان سے لاہیں گے جو ڈیفنی کو ملی ہے کرپشن کے خلاف زندگی بھی لڑنے والی ڈیفنی نے کرپشن اور عزت کے مقام کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی ہے جسے کبھی ختم نہ کیا جا سکے گا اس نے موت کا راستہ چن کر بہادری کا راستہ منتخب کیا اور اسے مارنے والوں چھپ کر وار کر کے بزدلی کو منتخب کیا وہ ڈیفنی کو مار کر بھی ہار گے اور ڈیفنی نے اپنی آخرت کو سنوار لیا وہ دنیا کے لیے فرض شناسی کی مثال بن گئی ۔30 سال تک صحافتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس نے جان دے دی اور دنیا میں امر ہو گئی ۔ موجودہ دور میں کام کرنے والے صحافیوں کو بھی ایسی ہی مثال قائم کرنی چاہیے کرپشن کرنے کی بجائے اس کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے آج جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحافت کی عزت نہیں رہی اب خبر کی اہمیت نہیں رہی ان کو ڈیفنی اور ان جیسے کئی صحافیوں کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دئے کر ہماری زندگیوں کو محفوظ بنایا ہے اگر اپ کی خبر حقیقت پر مبنی ہے اور اس میں آپ کا کسی طرح کا مفاد وابستہ نہیں ہے تو پھر اس کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی اس خبر کا اثر بھی ہو گا اور وہ تاریخ بھی رقم کرے گی اس میدان میں نئے آنے والے صحافیوں کو چاہیے کہ ہمیشہ مثبت انداز فکر سے خبر فائل کریں آپ وقتی طور پر کسی کی پگڑی اچھال کر داد تو حاصل کر لیں گے لیکن اس خبرکے نتائج دیر پا نہیں ہوں گے وہ خبر جلد ہی اپنی موت آپ مر جائے گی اور یہی صحافت کی موت ہے

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں