42

اے‌نئیر‌کی‌برسی‌پر‌ریڈیو پاکستان کا خصوصی پروگرام ہم تنہا نشر

پروگرام کو انتخاب اکرم نے تحریر جبکہ راوی خورشید علی تھے- پروگرام میں اے نئیر کے گائے ہوئے نغموں کی خوبصورت مکسنگ نے نیا آہنگ پیدا کیا ۔پروگرام میں ڈپٹی کنٹرولر سینٹرل پروڈکشن یونٹ سید شہوار حیدر اور سئینیر صحافی سید طاہر بخاری کے تاثرات بھی شامل تھے جنہوں نے اے نئیر کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں ملک کا بہترین گلوکار قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ اے نئیر فلمی نغمات گاتے ہوئے یوڈلنگ جو کرتے تھے اس نے انھیں فن گلوکاری میں ممتاز حثیت دلائی اور یہی وجہ ہے کہ انھیں کشور کمار کا متبادل سمجھا جاتاتھا پروگرام کی خاص بات اس میں شامل تمغہ امتیاز گٹارسٹ سجاد طافو کی گفتگو اور پرفارمنس تھی ان کا کہنا تھا کہ اے نئیر سے ان کا تعلق 1974ء میں بنا اور یہ رفاقت ان کی وفات تک جاری رہی اس دوران انھوں نے پاکستانی سینما کے لئے جتنے گیت بھی گائے میں نے ان میں گٹار اور دیگر موسیقی کے آلات بجائے ۔اے نئیر سے میری بڑی یادیں وابستہ ہیں یہ کہتے ہوئے وہ کچھ غمگین ہوئے اور بعد میں انھوں نے اپنے دوست کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے گائے ہوئے گیتوں اک بات کہوں دلدارہ،ساتھی مجھے مل گیا،ضد نہ کر اس قدر اور جنگل میں منگل تیرے ہی دم سے پر لائیو پرفارم کیا جس سے پروگرام کی صوتی اہمیت میں اضافہ ہوا اس پروگرام کی بست وکشاد مدثر قدیر نے کی جبکہ پروگرام کی پروڈیوسر عفت علوی تھیں

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں